The Pak Gaming
Ad
Saturday, January 6, 2018
”مکھن نکالتے نکالتے پاکستانیوں نے مداہنی سے ایٹم بم بنا لیا،سابق سی آئی اےچیف پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے پر کیسے ماتم مناتا رہا؟“
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور پنجاب یونیورسٹی میں 1965سے 1969تک کوانٹم فزکس پڑھانے والے ریاض محمدخان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام بارے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہونگے۔ نجی ٹی وی ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحریر میں ریاض محمد خان بتاتےہیں کہ 1960 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن(پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا
پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی ایک ‘فراڈ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنالوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی کر رہا ہے۔سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
Saturday, December 30, 2017
Friday, December 29, 2017
روسی صدر پیوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے
کراچی: روسی قونصل جنرل نے داعش کی افغانستان میں موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک میں امریکی مداخلت کشیدگی کو پروان چڑھارہی ہے، روس پاکستان کو جلد جنگی طیارے اور مسافر جہاز دے گا ، روسی صدر پیوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے، شام اور یوکرین میں امریکی مداخلت حالات کشیدہ کررہی ہے، فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے وہ فیصلہ قبول ہوگا جو دونوں فریقین کو قبول ہو۔روسی قونصلر جنرل الیگزینڈر خوزین نے کراچی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال پر پاکستان سمیت دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں، مختلف ممالک میں امریکی مداخلت کشیدگی کو پروان چڑھارہی ہے، حالات سازگار ہوتے ہی روسی صدر پیوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ روسی قونصل جنرل نے کہا پاکستان میں داعش کی موجودگی کی میڈیا رپورٹس ہیں لیکن ان کا ثبوت ہونا چاہیے، روس اور پاکستان عالمی سطح پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کررہے ہیں اور روس پاکستان کو جلد جنگی طیارے اور مسافر جہاز دے گا ۔انہوں نے دعوی کیا کہ داعش کے جنگجووں نے وسطی ایشیائی ممالک سے روسی سرحد عبورکی ہے، صورتحال پر تشویش ہے۔ روسی سفیرنے امریکاکو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ شام اور یوکرین میں امریکی مداخلت حالات کشیدہ کررہی ہے، فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے وہ فیصلہ قبول ہوگا جو دونوں فریقین کو قبول ہو۔الیگزینڈر خوزین نے بتایا کہ حالات سازگار ہوتے ہی روسی صدر پیوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے۔
Thursday, December 28, 2017
بڑے بحری جہاز
کے ذکر پر عموماً ٹائی ٹینک کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔۔۔ لیکن آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ’’#ہارمونی_آف_سیز‘‘ ہے۔۔۔ جو اپنے پہلے سفر پر روانہ ہو چکا ہے۔
فرانس میں تیار ہونے والے اس جہاز کی تیاری پر ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ ٹائی ٹینک کی لمبائی 882 فٹ تھی جب کہ اس جہاز کی لمبائی 1188 فٹ ہے جو 5 بوئنگ 747 طیاروں کے برابر ہے۔ یہ بحری جہاز سمندر میں ایک چلتے پھرتے شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔
اس کی تزئین و آرائش انتہائی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔ دیکھنے والوں کو متاثر کرنے کے لیے اس کے اندر ایک جیسا ڈیزائن نہیں رکھا گیا۔ بلکہ مختلف تھیمز اپنائے گئے ہیں جو اس کی دلکشی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے سب سے بڑے بحری جہاز کو امریکی رائل کیریبیئن کروز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
فرانس کے ساحل سے روانہ ہونے والے جہاز کے پہلی دفعہ سمندر میں اترنے کا منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں شہری موجود تھے۔ سمندر میں اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے اس جہاز میں 25 ہزار ہارس پاور کی طاقت موجود ہے۔
یہ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاز میں 18 ڈیکس موجود ہیں جن پر بنائے گئے 6780 کمروں میں 2747 مہمان ٹھہر سکتے ہیں۔
جہاز کے عملے میں 2100 دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ مہمانوں کے لیے اس جہاز میں تفریح کا سارا بندوبست موجود ہے۔
فلم بینی کے لیے اس میں ایک سینما بھی بنایا گیا ہے۔
فرانس میں تیار ہونے والے اس جہاز کی تیاری پر ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ ٹائی ٹینک کی لمبائی 882 فٹ تھی جب کہ اس جہاز کی لمبائی 1188 فٹ ہے جو 5 بوئنگ 747 طیاروں کے برابر ہے۔ یہ بحری جہاز سمندر میں ایک چلتے پھرتے شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔
اس کی تزئین و آرائش انتہائی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔ دیکھنے والوں کو متاثر کرنے کے لیے اس کے اندر ایک جیسا ڈیزائن نہیں رکھا گیا۔ بلکہ مختلف تھیمز اپنائے گئے ہیں جو اس کی دلکشی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے سب سے بڑے بحری جہاز کو امریکی رائل کیریبیئن کروز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
فرانس کے ساحل سے روانہ ہونے والے جہاز کے پہلی دفعہ سمندر میں اترنے کا منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں شہری موجود تھے۔ سمندر میں اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے اس جہاز میں 25 ہزار ہارس پاور کی طاقت موجود ہے۔
یہ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاز میں 18 ڈیکس موجود ہیں جن پر بنائے گئے 6780 کمروں میں 2747 مہمان ٹھہر سکتے ہیں۔
جہاز کے عملے میں 2100 دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ مہمانوں کے لیے اس جہاز میں تفریح کا سارا بندوبست موجود ہے۔
فلم بینی کے لیے اس میں ایک سینما بھی بنایا گیا ہے۔
سلطان محمود غزنوی اورچوروں کے قطب
سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا
کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا۔ چوروں نے کہا کہ اچھا اپنا ہنر بتاؤ۔ بادشاہ نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا پہلے تم لوگ اپنا ہنر بیان کرو۔ایک چور نے کہا کہ میرے اندر یہ فن ہے کہ میں اونچی سے اونچی دیوار پھاند کر مکان میں داخل ہو جاتا ہوں، چاہے بادشاہ کا قلعہ ہی کیوں نہ ہو۔دوسرے نہ کہا کہ میری ناک میں یہ خاصیت ہے کہ جہان خزانہ مدفون ہوتا ہے، میں مٹی سونگھ کر خزانہ بتا دیتا ہوں کہ یہاں خزانہ ہے۔ جیسے مجنوں کو خبر نہیں تھی کہ لیلی کی قبر کہاں ہے۔قبرستان جا کر ہر قبر کو سونگھا ،جب لیلی کی قبر کی مٹی سونگھی تو بتا دیا کہ لیلی یہاں ہے۔ ؎ ہمچو مجنوں بو کنم ہر خاک را
خاکِ لیلی را بیا بم بے خطا مولانا فرماتے ہیں کہ جو مولی کے عاشق ہیں وہ بھی مثل مجنوں کے ہر مٹی کو سونگھتے ہیں اورجس خاک میں مولی ہوتا ہے تو وہ سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس کے قلب میں مولی ہے۔ اللہ کے عاشقین اللہ والوں کے چہرہ سے ،ان کی آنکھوں سے، ان کی گفتگو سے پتہ پا جاتے ہیں کہ یہ دل صاحبِ نسبت ہے۔تیسرے چور نے کہا کہ میرے بازو میں ایسی طاقت ہے کہ چاہے کتنی ہی موٹی دیوار ہو میں گھر میں گھسنے کے لئے اس میں سوراخ کر دیتا ہوں۔چوتھے نے کہا کہ میں ماہرِ حساب ہوں،پی ایچ ڈی میتھمیٹکس (Mathematics)ہوں۔ کتنا ہی بڑا خزانہ ہو چند سیکنڈ میں حساب لگا کر تقسیم کر دیتا ہوں۔ پانچویں نے کہا کہ میرے کانوں میں ایسی خاصیت ہے کہ میں کتے کی آواز سن کر بتا دیتا ہوں کہ کتا کیا کہہ رہا ہے۔ چھٹے نے کہا کہ میری آنکھوں میں یہ خاصیت ہے کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا ہوں دن میں اس کو پہچان لیتا ہوں۔اب سب چورو ں نے بادشاہ سے پوچھا کہ اے چور بھائی! تمھارے اندر کیا خاص بات ہے ؟ شاہ محمود نے کہا کہ بھئی میری داڑھی میں ایک خاصیت ہے کہ ؎چوں بجنبد ریش من ایشان رہند
جب مجرمین کو پھانسی کے لئے جلادوں کے حوالہ کر دیاجاتا ہے اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین پھانسی کے پھندے سے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہ سن کر چور مارے خوشی کے کہنے لگے کہ ؎گفتندش کہ قطب ما توئی
روز محنت ہا خلاص ما توئی
آپ تو چوروں کے قطب ہیں۔ جب ہم کسی مصیبت میں پھنسیں گے تو آپ ہی کے ذریعہ ہم کو خلاصی ملے گی۔ لہذا فیصلہ ہو ا کی آج بادشاہ کے یہاں چوری کی جائے کیونکہ آج سب اراکین نہایت پاور فل ہیں اور مصیبت سے چھڑانے والا داڑھی والا بھی ساتھ ہے۔لہذا سب بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں کتا بھونکا تو کتے کی آواز پہچاننے والے نے کہا کہ کتا کہہ رہا ہے
کہ بادشاہ تمھارے ساتھ ہے لیکن چور پھر بھی چوری کے ارادے سے کیوں نہ باز آئے ؟ بوجہ لالچ اور طمع کے، کیونکہ لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور عقل و ہوش کو اڑا دیتا ہے جس سے ہنر پوشیدہ ہو جاتا ہے۔مو لانا رومی فرماتے ہیں ؎
صد حجاب از دل بسوئے دیدہ شد
چوں غرض آمد ہنر پوشید ہ شد
ہر گناہ اسی طرح ہوتا ہے کہ شہوت اور لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ،پھر بُرے بھلے کی تمیز نہیں رہتی۔ جانتا ہے کہ یہ آنکھوں کا زنا ہے لیکن مغلوب ہو کر گناہ کرتا ہے، اسی لئے نے اسباب گناہ سے دوری کا حکم فرمایا تاکہ لالچ پیدا ہو۔
لہذا بادشاہ کے یہاں چوری ہوئی۔چوروں نے خزانہ لوٹ لیا اور جنگل میں بیٹھ کر ماہرحساب نے سب کا حصہ لگا کر چند منٹ میں تقسیم کردیا۔ بادشاہ نے کہا: سب لوگ اپنا اپنا پتہ لکھوادیں تاکہ آئندہ جب چوری کرنا ہو تو ہم لوگ آسانی سے جمع ہو جائیں۔ اس طرح بادشاہ نے سب کا پتہ نوٹ کر لیا۔اگلے دن شاہ نے عدالت لگائی اور پولیس والوں کو حکم دیا کہ سب کو پکڑ لاؤ۔جب سب چور ہتھکڑیاں ڈال کر حاضر کئے گئے تو بادشاہ نے سب کو پھانسی کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں کسی گواہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سلطان خود وہاں موجود تھا۔ اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی کو کسی گواہ کی ضرورت نہیں کیونکہ
Īوَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْĨ
[الحدید:4]
جب تم بد کاریاں کررہے تھے تومیں تو تمھارے ساتھ موجود تھا، لہذا اللہ تعالی کو کسی گواہ کی حا جت نہیں۔ پھر قیامت کے دن جو اعضاء کی گواہی ،زمین کی گواہی ،فرشتوں کی گواہی،اور صحیفہ اعمال کی جو گواہی پیش کی جائی گی وہ بندوں پر حجت تام کرنے کے لئے ہوگی۔
جب چھ کے چھ چور پھانسی کے تختہ پر کھڑے ہو گئے تو وہ چور جس نے بادشاہ کو دیکھا تھا اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی بادشاہ جو رات کو ہمارے ساتھ تھا۔ وہ تختہ دار سے چِلاّیا کہ حضور کچھ دیر کو ہماری جانوں کو امان دی جائے ،میں آپ سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے،تھوڑی دیر کے لئے پھانسی کو موقوف کر دو اور اس کو میرے پاس بھیج دو۔ چور نے حاضر ہو کر عرض کیا کہہر یکے خاصیتے خود وا نمود
اے بادشاہ! ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا ہنر دکھا دیا لیکن
ایں ہنر ہا جملہ بدبختی فزود
ہمارے سب کے سب ہنر جن پر ہم کو ناز تھا انہوں نے ہماری بدبختی کو اور بڑھادیا کہ آج ہم تختہ دار پر ہیں۔ اے بادشاہ!میں نے آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب مجرموں کو تختہ دار پر چڑھایا جاتا ہے اس وقت غایتِ کرم سے اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین کو پھانسی سے نجات پاجاتے ہیں۔لہذا اپنے ہنر کا ظہور فرمایئے تاکہ ہماری جان خلاصی پا جائے۔ مولانا رومی فرماتےہیں کہ سلطان محمود نے کہا تمھارے کمالاتِ ہنر نے تو تمھاری گردنوں کو مبتلاءِ قہر کردیا تھا لیکن یہ شخص جو سلطان کا عارف تھا اس کی چشم ِسلطان شناس کے صدقہ میں میں تم سب کو رہا کرتا ہوں
اس قصہ کو بیان فرما کر مولانا رومی فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص اپنے ہُنر پر ناز کررہا ہے ،بڑے بڑے اہل ہنر اپنی بد مستیوں میں مست اور خدا سے غافل ہیں لیکن قیامت کے دن ان کےیہ ہنر کچھ کام نہ آ ئیں گے اور ان کو مبتلائے قہر و عذاب کردیں گے لیکن ؎
جز مگر خاصیت آں خوش حواس
کہ بشب بود چشم او سلطاں شناس
جن لوگوں نے اس دنیا کے اندھیرے میں اللہ کو پہچان لیا ،نگاہِ معرفت پیدا کر لی قیامت کے دن یہ خود بھی نجات پائیں گے اور ان کی سفارش گنہگاروں کے حق میں قبول کی جائے گی۔
کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا۔ چوروں نے کہا کہ اچھا اپنا ہنر بتاؤ۔ بادشاہ نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا پہلے تم لوگ اپنا ہنر بیان کرو۔ایک چور نے کہا کہ میرے اندر یہ فن ہے کہ میں اونچی سے اونچی دیوار پھاند کر مکان میں داخل ہو جاتا ہوں، چاہے بادشاہ کا قلعہ ہی کیوں نہ ہو۔دوسرے نہ کہا کہ میری ناک میں یہ خاصیت ہے کہ جہان خزانہ مدفون ہوتا ہے، میں مٹی سونگھ کر خزانہ بتا دیتا ہوں کہ یہاں خزانہ ہے۔ جیسے مجنوں کو خبر نہیں تھی کہ لیلی کی قبر کہاں ہے۔قبرستان جا کر ہر قبر کو سونگھا ،جب لیلی کی قبر کی مٹی سونگھی تو بتا دیا کہ لیلی یہاں ہے۔ ؎ ہمچو مجنوں بو کنم ہر خاک را
خاکِ لیلی را بیا بم بے خطا مولانا فرماتے ہیں کہ جو مولی کے عاشق ہیں وہ بھی مثل مجنوں کے ہر مٹی کو سونگھتے ہیں اورجس خاک میں مولی ہوتا ہے تو وہ سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس کے قلب میں مولی ہے۔ اللہ کے عاشقین اللہ والوں کے چہرہ سے ،ان کی آنکھوں سے، ان کی گفتگو سے پتہ پا جاتے ہیں کہ یہ دل صاحبِ نسبت ہے۔تیسرے چور نے کہا کہ میرے بازو میں ایسی طاقت ہے کہ چاہے کتنی ہی موٹی دیوار ہو میں گھر میں گھسنے کے لئے اس میں سوراخ کر دیتا ہوں۔چوتھے نے کہا کہ میں ماہرِ حساب ہوں،پی ایچ ڈی میتھمیٹکس (Mathematics)ہوں۔ کتنا ہی بڑا خزانہ ہو چند سیکنڈ میں حساب لگا کر تقسیم کر دیتا ہوں۔ پانچویں نے کہا کہ میرے کانوں میں ایسی خاصیت ہے کہ میں کتے کی آواز سن کر بتا دیتا ہوں کہ کتا کیا کہہ رہا ہے۔ چھٹے نے کہا کہ میری آنکھوں میں یہ خاصیت ہے کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا ہوں دن میں اس کو پہچان لیتا ہوں۔اب سب چورو ں نے بادشاہ سے پوچھا کہ اے چور بھائی! تمھارے اندر کیا خاص بات ہے ؟ شاہ محمود نے کہا کہ بھئی میری داڑھی میں ایک خاصیت ہے کہ ؎چوں بجنبد ریش من ایشان رہند
جب مجرمین کو پھانسی کے لئے جلادوں کے حوالہ کر دیاجاتا ہے اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین پھانسی کے پھندے سے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہ سن کر چور مارے خوشی کے کہنے لگے کہ ؎گفتندش کہ قطب ما توئی
روز محنت ہا خلاص ما توئی
آپ تو چوروں کے قطب ہیں۔ جب ہم کسی مصیبت میں پھنسیں گے تو آپ ہی کے ذریعہ ہم کو خلاصی ملے گی۔ لہذا فیصلہ ہو ا کی آج بادشاہ کے یہاں چوری کی جائے کیونکہ آج سب اراکین نہایت پاور فل ہیں اور مصیبت سے چھڑانے والا داڑھی والا بھی ساتھ ہے۔لہذا سب بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں کتا بھونکا تو کتے کی آواز پہچاننے والے نے کہا کہ کتا کہہ رہا ہے
کہ بادشاہ تمھارے ساتھ ہے لیکن چور پھر بھی چوری کے ارادے سے کیوں نہ باز آئے ؟ بوجہ لالچ اور طمع کے، کیونکہ لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور عقل و ہوش کو اڑا دیتا ہے جس سے ہنر پوشیدہ ہو جاتا ہے۔مو لانا رومی فرماتے ہیں ؎
صد حجاب از دل بسوئے دیدہ شد
چوں غرض آمد ہنر پوشید ہ شد
ہر گناہ اسی طرح ہوتا ہے کہ شہوت اور لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ،پھر بُرے بھلے کی تمیز نہیں رہتی۔ جانتا ہے کہ یہ آنکھوں کا زنا ہے لیکن مغلوب ہو کر گناہ کرتا ہے، اسی لئے نے اسباب گناہ سے دوری کا حکم فرمایا تاکہ لالچ پیدا ہو۔
لہذا بادشاہ کے یہاں چوری ہوئی۔چوروں نے خزانہ لوٹ لیا اور جنگل میں بیٹھ کر ماہرحساب نے سب کا حصہ لگا کر چند منٹ میں تقسیم کردیا۔ بادشاہ نے کہا: سب لوگ اپنا اپنا پتہ لکھوادیں تاکہ آئندہ جب چوری کرنا ہو تو ہم لوگ آسانی سے جمع ہو جائیں۔ اس طرح بادشاہ نے سب کا پتہ نوٹ کر لیا۔اگلے دن شاہ نے عدالت لگائی اور پولیس والوں کو حکم دیا کہ سب کو پکڑ لاؤ۔جب سب چور ہتھکڑیاں ڈال کر حاضر کئے گئے تو بادشاہ نے سب کو پھانسی کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں کسی گواہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سلطان خود وہاں موجود تھا۔ اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی کو کسی گواہ کی ضرورت نہیں کیونکہ
Īوَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْĨ
[الحدید:4]
جب تم بد کاریاں کررہے تھے تومیں تو تمھارے ساتھ موجود تھا، لہذا اللہ تعالی کو کسی گواہ کی حا جت نہیں۔ پھر قیامت کے دن جو اعضاء کی گواہی ،زمین کی گواہی ،فرشتوں کی گواہی،اور صحیفہ اعمال کی جو گواہی پیش کی جائی گی وہ بندوں پر حجت تام کرنے کے لئے ہوگی۔
جب چھ کے چھ چور پھانسی کے تختہ پر کھڑے ہو گئے تو وہ چور جس نے بادشاہ کو دیکھا تھا اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی بادشاہ جو رات کو ہمارے ساتھ تھا۔ وہ تختہ دار سے چِلاّیا کہ حضور کچھ دیر کو ہماری جانوں کو امان دی جائے ،میں آپ سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے،تھوڑی دیر کے لئے پھانسی کو موقوف کر دو اور اس کو میرے پاس بھیج دو۔ چور نے حاضر ہو کر عرض کیا کہہر یکے خاصیتے خود وا نمود
اے بادشاہ! ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا ہنر دکھا دیا لیکن
ایں ہنر ہا جملہ بدبختی فزود
ہمارے سب کے سب ہنر جن پر ہم کو ناز تھا انہوں نے ہماری بدبختی کو اور بڑھادیا کہ آج ہم تختہ دار پر ہیں۔ اے بادشاہ!میں نے آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب مجرموں کو تختہ دار پر چڑھایا جاتا ہے اس وقت غایتِ کرم سے اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین کو پھانسی سے نجات پاجاتے ہیں۔لہذا اپنے ہنر کا ظہور فرمایئے تاکہ ہماری جان خلاصی پا جائے۔ مولانا رومی فرماتےہیں کہ سلطان محمود نے کہا تمھارے کمالاتِ ہنر نے تو تمھاری گردنوں کو مبتلاءِ قہر کردیا تھا لیکن یہ شخص جو سلطان کا عارف تھا اس کی چشم ِسلطان شناس کے صدقہ میں میں تم سب کو رہا کرتا ہوں
اس قصہ کو بیان فرما کر مولانا رومی فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص اپنے ہُنر پر ناز کررہا ہے ،بڑے بڑے اہل ہنر اپنی بد مستیوں میں مست اور خدا سے غافل ہیں لیکن قیامت کے دن ان کےیہ ہنر کچھ کام نہ آ ئیں گے اور ان کو مبتلائے قہر و عذاب کردیں گے لیکن ؎
جز مگر خاصیت آں خوش حواس
کہ بشب بود چشم او سلطاں شناس
جن لوگوں نے اس دنیا کے اندھیرے میں اللہ کو پہچان لیا ،نگاہِ معرفت پیدا کر لی قیامت کے دن یہ خود بھی نجات پائیں گے اور ان کی سفارش گنہگاروں کے حق میں قبول کی جائے گی۔
Subscribe to:
Comments (Atom)
”مکھن نکالتے نکالتے پاکستانیوں نے مداہنی سے ایٹم بم بنا لیا،سابق سی آئی اےچیف پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے پر کیسے ماتم مناتا رہا؟“
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور پنجاب یونیورسٹی میں 1965سے 1969تک کوانٹم فزکس پڑھانے والے ریاض محمدخان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام بارے چن...







